بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی
نہیں بھولتے کسی کو مہ و سالِ آشنائی
یہی خواب ہے سفر میں رہے تو سدا نظر میں
ہمیں جس طرف اڑائیں پر و بالِ آشنائی
کریں جاں نثار تجھ پر کہ فدا ہیں یار تجھ پر
جنھیں علم ہے گراں ہے زر و مالِ آشنائی
سبھی تجھ پہ مر رہے ہیں یہ گلہ بھی کر رہے ہیں
تجھے پاسِ دوستی ہے نہ خیالِ آشنائی
کبھی اس سے واسطہ ہے کبھی اُس سے رابطہ ہے
ترے زاویے سے ٹھہرا ہے کمالِ آشنائی
کس رخ سے تھے نہ غافل رہے یاد سب مراحل
ہمیں ورنہ مار دیتا یہ مآلِ آشنائی
نہیں ضبط کو گوارا کھلے تجھ پہ دکھ ہمارا
سو بیان تک نہ پہنچا غمِ حالِ آشنائی
